بی آر ایس حکومت کے وعدے ادھورے، کانگریس دور میں بھی راحت نہیں: کویتا

BRS government’s promises unfulfilled, no relief even during Congress rule: Kavita

میری لڑائی سماجی تلنگانہ کے قیام کے لئے ہے

تلنگانہ جاگروتی نے عوامی مسائل کی یکسوئی کا بیڑہ اٹھایا ہے

پانچ اضلاع پر مشتمل ایکشن ٹیکن رپورٹ کی عنقریب پیشکشی

پریس کلب ورنگل میں کے کویتا کا میڈیا سے خطاب

ورنگل:

(اپنا ورنگل)

تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے کہا ہے کہ وہ سیاست میں ضرور حصہ لیں گی اور یہ ثابت کر کے دکھائیں گی کہ اگر خواتین سیاست میں قدم رکھیں تو وہ کس طرح مثبت تبدیلی لا سکتی ہیں۔ تاہم فی الحال ان کی جدوجہد عوامی مسائل کے حل کے لیے ہے۔ وہ ورنگل پریس کلب میں میڈیا سے خطاب کیا۔کویتا نے کہا کہ سیاست صرف انتخابی سال میں ہونی چاہئے، جب کہ باقی چار سال عوام کی ترقی اور بہبود کے لئے وقف ہونے چاہئیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت عوام کے مسائل پر توجہ دینے میں ناکام رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تلنگانہ صرف چند افراد کا نہیں، بلکہ سب کا تلنگانہ ہونا چاہئے، جہاں مساوات، تعلیم اور علاج کے مواقع سب کے لئے یکساں ہوں۔ انہوں نے طلبہ یونین کے انتخابات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ نئی قیادت کو موقع مل سکے۔ کویتا کے مطابق بی آر ایس حکومت نے اپنی دس سالہ حکمرانی میں کئی اچھے کام کئے، لیکن بہت سے وعدے ادھورے رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کے دو سال مکمل ہوچکے ہیں، مگر عوامی مشکلات اب بھی برقرار ہیں۔کویتا نے ورنگل کو تلنگانہ تحریک کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سرزمین پروفیسر جیہ شنکر، بی پوتنا اور رانی ردرما دیوی جیسی عظیم شخصیات کی جنم بھومی ہے۔

انہوں نے اپنے حالیہ دورے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ مدناپیٹ، کاکتیہ یونیورسٹی، لائبریری اور ایم جی ایم اسپتال کا جائزہ لے چکی ہیں۔ان کے مطابق ایم جی ایم اسپتال کی حالت انتہائی خراب ہے، جہاں دو مریض ایک ہی بیڈ پر علاج کے لیے مجبور ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹروں اور نرسوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جو محدود وسائل میں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کاکتیہ یونیورسٹی میں لڑکیوں کے لیے ہاسٹل نہ ہونے پر کویتا نے کہا کہ 1100 طالبات باہر رہ کر تعلیم حاصل کر رہی ہیں، جو حکومت کے لیے باعثِ شرم ہے۔زرعی مسائل پر بات کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ حکومت نے 10 لاکھ میٹرک ٹن دھان خریدنے کا وعدہ کیا تھا، مگر اب تک صرف 17 ہزار میٹرک ٹن خریدا گیا ہے، جو کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورنگل کے اسمارٹ سٹی منصوبے کے تحت 900 کروڑ روپئے آئے، جن میں سے 200 کروڑ بھدراکالی چیرو کی مرمت پر خرچ کیے گئے جبکہ اب مزید 300 کروڑ انہی کاموں کے لیے رکھے جا رہے ہیں، جب کہ عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

کویتا نے مطالبہ کیا کہ ورنگل میں سیوریج سسٹم، ڈرینج اور ڈمپنگ یارڈ کے کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ نظام آباد میں تین سال کے اندر انڈر گراؤنڈ ڈرینج مکمل کیا گیا، لیکن ورنگل آج بھی اس سہولت سے محروم ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی وابستگی کسی عہدے سے نہیں بلکہ تلنگانہ سے ہے۔ ان کا مقصد ایک سماجی تلنگانہ کی تشکیل ہے، جہاں ہر طبقے کو موقع، اختیار اور عزت ملے۔ کویتا نے بتایا کہ جاگروتی تنظیم کو دوبارہ مضبوط کیا جا رہا ہے، اور جلد ہی پانچ اضلاع کے عوامی مسائل پر مبنی ایک جامع "ایکشن ٹیکن رپورٹ” جاری کی جائے گی.

News Source : M.F. Baig Riaz