کانگریس کی جانب سے2023 اسمبلی انتخابات کے دوران جاری کئے گئے انتخابی منشور پر مکمل عمل آوری کرنے بی۔ار۔ایس۔اقلیتی قائدین کریم نگر کا شدید مطالبہ، مشترکہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب۔

Addressing a joint press conference, the BRS minority leaders of Karimnagar strongly demanded the full implementation of the election manifesto issued by the Congress during the 2023 assembly elections

(اپنا ورنگل)

کریم نگر  :

بی۔ار۔ایس۔سنیئر قائد محمد جمیل الدین ایڈوکیٹ کی قیادت میں اج رکن اسمبلی کریم نگر گنگولہ کملاکر کی رہائش گاہ کرسچن کالونی میں بی۔ار۔ایس۔قائدین میر شوکت علی، محمدواجد ،عقیل فیروز، شرفو، سید عرفان الحق ،محمد نعیم،عظیم،نمایندہ کارپوریٹر اشتیاق احمد عرف جمو، کارپوریٹرس مقدر علی، شیخ یوسف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کانگریس حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اقلیتی بجٹ 4ہزار کروڑ میں اضافہ کرتے ہوے اس رقم کی جاری کریں تاک اقلیتی طبقات اس سے مستفید ہوسکے۔انھوں نے کانگریس حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ 2023 کے اسمبلی انتخابات کے دوران جاری کئے گئے انتخابی منشور کو من و عن روبعمل لاے۔

بصورت دیگر ریاستی سطح پر احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا انتباہ دیا۔انھوں نے منشور کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوے بتایاکہ اس منشور میں میناریٹی ڈکلریشن،اقلیتوں کو مالی امداد کے ساتھ ساتھ کانگریس کے اقتدار پر آتے ہی اندرون 6 ماہ مردم شماری،سرکاری محکمہ جات،تعلیمی ادارہ جات،پسماندہ طبقات کو تحفظات فراہم کرنے،میناریٹی کے بجٹ کو سالانہ 4ہزار کروڑ مختص کرنے،مسلم اقلیتوں کیلیئے میناریٹی سب پلان،تعلیمیافتہ اقلیتی بیروزگار نوجوانوں ،خواتین کو سبسیڈی قرضہ جات کی فراہمی کیلئے سالانہ علحدہ ایک ہزار کروڑ روپیئے مختص کرنے،عبدالکلام توشہ تعلیم اسکیم کے تحت پی۔ایچ۔ڈی۔ایم۔فل مکمل کرنے والے مسلم،سکھ،عیسائ، و دیگر میناریٹی طبقات

امیدواروں کو5 لاکھ روپیئے مالیاتی امداد، اس کے اعلاوہ ایس۔ایس۔سی امیدواران کو 10 ہزار،انٹرمیڈیت امیدواروں کو 15ہزار،گرایئجویٹس کو 25 ہزار اور پوسٹ گرائجویٹس کو ایک لاکھ روپیئے بھتہ،روزگار دینے،تلنگانہ سکھ فینانس کارپوریشن قائم کرنے،وقف بورڈ،میناریٹی کرسچن کارپوریشن، حج ہاوس،اردو اکیڈیمی، ادارہ جات میں مخلوعہ جائدادوں پرتقررات عمل میں لانے،اردو میڈیم اساتذہ کے تقررات کیلیئے خصوصی ڈی۔ایس۔سی منعقد کرنے،ائمہ و موزنین، خادمین،پادریوں، پجاریوں ،کے اعزاز میں اضافہ 10 تا 12 ہزار روپیئے ماہانہ کرنے،ریاستی میناریٹی کمیشن 1998ایکٹ میں ترمیم،

اقلیتوں کی فلاح وبہبود،وقف اراضیات،اثاثہ جات کو ڈیجٹلائیزیشن کرنے،وقف غیر مجاز قبضہ جات کی برخواستگی عمل میں لانے،مسلم و کرسچن قبرستانوں کی تعمیر تزئین نو،تحفظ،اور اس کیلیئے درکار آراضی مختص کرنے،تمام اقلیتی طبقات کو خو بے گھر ہیں انھیں ،آراضی اور 5 لاکھ روپیئے اندراماں امکنہ جات کی فراہمی،کے علاوہ حیدرآباد میں موجود سیٹ ون setwin کی ترقی،قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمینٹ اتھاریٹی کا قیام عمل میں لانے کے مطالبات شامل ہیں کو۔فی الفور روبعمل لانےکی خواہشکی گئ ۔بصورت دیگر احتجاج کا سخت انتباہ دیا گیا۔

News Source : Shafeeq Ahmed