ورنگل میں شہری و جمعیت اہل حدیث کے زیر اہتمام ،’ پیغام اسلام ،انسانیت کے نام کانفرنس‘ کا انعقاد ۔

A conference titled ‘Message of Islam, In the Name of Humanity’ was organized in Warangal by the people of Warangal and Jamiat Ahle Hadith

فضیلت الشیخ ڈاکٹر معراج ربانی مدنی مدظلہ ، شیخ عبدالرحمن محمدی مدنی اور دیگر کا خطاب ۔

(اپنا ورنگل)

ورنگل :

فضیلت الشیخ ڈاکٹر معراج ربانی مدنی حفظ اللہ نے کہا کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی نفرت، تعصب اور عدم برداشت کے ماحول میں اسلام کا پیغام انسانیت کے نام ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام امن، محبت، رواداری اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے اور ہر انسان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی تعلیم دیتا ہے۔فضیلت الشیخ ڈاکٹر معراج ربانی مدنی نے شہری و ضلعی جمعیت اہلحدیث ورنگل کے زیر اہتمام ایل بی نگر ورنگل میں اے ون کنونشن ہال میںمنعقدہ ’ پیغام اسلام ،انسانیت کے نام کانفرنس ‘ پروگرام میں بہ حیثیت مہمان خصوصی مخاطب کیا ۔

اس پروگرام کی صدارت شیخ عبدالرحمن محمدی مدنی امیر شہری و ضلعی جمعیت اہل حدیث ورنگل نے کی ۔مولانا شیخ صابر نیر عمری نے استقبالیہ کلماپ پیش کئے ۔پروگرام کا آغاز حافظ و قاری اشرف عالم کے قرآت کلام پاک سے ہوا ۔حافظ ارقم کلیم عمری نے نظامت کی ۔اس موقع پر ڈاکٹر معراج ربانی نے اپنے تقریرکا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسلام کا بنیادی ماخذ قرآنِ مجید ہے جو انسانوں کو عدل و انصاف، صبر و تحمل اور ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین کرتا ہے۔ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ کسی ایک جان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی عورتوں، یتیموں، مسکینوں اور کمزور طبقات کے حقوق متعین کر دیے تھے۔ انہوںنے کہا کہ آج کے دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کے حقیقی پیغام — یعنی امن، محبت اور انسانیت — کو عام کیا جائے تاکہ معاشرے میں پھیلتی ہوئی نفرت کا خاتمہ ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر اسلام کی اصل تعلیمات کو اپنایا جائے تو دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے اور انسانیت کو درپیش مسائل کا حل ممکن ہے۔اسلام کا پیغام صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے، جو محبت، عدل اور بھائی چارے پر مبنی ایک پرامن معاشرے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لڑکیوں سے جہیز کا مطالبہ کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے، کیونکہ یہ عمل نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ کئی خاندانوں کے لیے شدید مالی اور ذہنی دباؤ کا سبب بھی بنتا ہے۔جہیز کی رسم کی وجہ سے بے شمار والدین قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، جبکہ کئی بچیوں کی شادیاں صرف اس وجہ سے تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں کہ وہ جہیز کا انتظام نہیں کر پاتے۔انہوں نے کہاکہ شادی ایک سادہ اور باوقار بندھن ہے، اسے دولت اور سامان سے مشروط کرنا ناانصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو آگے بڑھ کر اس فرسودہ رسم کو مسترد کرنا چاہیے اور سنت کے مطابق سادہ شادیوں کو فروغ دینا چاہیے۔ ایک خوشحال اور باوقار معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں بیٹیوں کو بوجھ نہیں بلکہ رحمت سمجھا جائے۔ جہیز کا مطالبہ دراصل انسانی وقار اور مساوات کے اصولوں کے خلاف ہے۔وقت آ گیا ہے کہ معاشرہ اجتماعی طور پر جہیز جیسی لعنت کے خلاف آواز بلند کرے اور شادی کو آسان اور باعزت بنانے کی کوشش کرے، تاکہ کسی بھی بیٹی کے والدین کو شرمندگی یا مجبوری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جناب شیخ عبدالرحمن محمدی مدنی امیر شہری و ضلعی جمعیت اہل حدیث نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ انسانیت کی خدمت ہی اس جلسہ کا بنیادی مقصد ہے۔جلسے کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ ایک مضبوط اور خوشحال معاشرہ وہی ہے جہاں انسانیت کی خدمت کو اولین ترجیح دی جائے اور ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔انہوں نے کہاکہ جھوٹ ،حسد ،چغلی اور دیگر برائیاں جو معاشرے پھیلی ہوئی ہیں نہ صرف فرد کی شخصیت کو متاثر کرتی ہیں بلکہ پورے معاشرے میں نفرت اور بداعتمادی کو جنم دیتی ہیںاور اپنے نیکیوں کو ختم کردیتی ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ سچائی، درگزر اور بھائی چارہ ہی ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ اعتماد کو ختم کر دیتا ہے، غیبت رشتوں میں دراڑ ڈالتی ہے جبکہ حسد معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتا ہے۔بچوں کی اخلاقی تربیت گھر اور تعلیمی اداروں دونوں میں ضروری ہے تاکہ نئی نسل کو اچھے اخلاق کی اہمیت کا شعور دیا جا سکے۔ اگر ہر فرد اپنی اصلاح پر توجہ دے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے تو معاشرے سے ان برائیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں سچائی، محبت اور برداشت کو فروغ دیا جائے اور جھوٹ، غیبت اور حسد جیسی برائیوں سے مکمل اجتناب کیا جائے تاکہ ایک پرامن اور خوشگوار ماحول قائم ہوسکے ۔اس موقع پر فضیلت الشیخ عارف کلیم مد۔

News Source : M.F. Baig Riaz